اشاعتیں

جہاد لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مسٹر جدیدالاسلام

نو مسلم کو فارسی میں جدیدالاسلام کہتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ کسی یتیم خانے یا مدرسے کا نام ہے جسے قربانی کی کھالیں دے کر ثواب دارین حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی کو نومسلم کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے ایمان کی پختگی اور عبادات میں شدیدالعمل ہونے کی گواہی دی جا رہی ہے۔ مسٹر جدیدالاسلام کے بارے میں شبہ ہوتا ہے کہ فیشن کے طور پر اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ جونہی فیشن بدلا یہ اسلام سے باہر یا بیزار ہو جائیں گے۔ جدید ہونے کی وجہ سے ان کے بنیاد پرست یا جہاد پسند ہونے کا کوئی امکان نہیں۔   ( مختار مسعود: لوحِ ایام، ص 413 ) ​

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​

فکرِ اقبال   اور قادیانی   تحریک ​ تحریر :  علیم ناصری رحمہ اللہ ، مدیر الاعتصام  ​ ہندوستان میں ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں انگریز فاتح کی حیثیت سے مختارِکل بن گیا ۔ اس نے مغل سلطنت کے تاروپود بکھیر دِیے اور ہندو ریاستوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا ۔اس کو مسلمان قوم سے بہرحال خطرہ درپیش تھا کیوں کہ اس قوم میں جذبہء جہاد   کسی بھی وقت ابھر آنے کی توقع تھی۔ اس لیے اس نے اس کے فکری محاذ اور دینی عقائد پر ضربِ کاری لگانے کی ڈپلومیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور انگلستان اور دیگر یورپی ممالک سے عیسائی مشنری  [مبلغین اور دانشور] یہاں درآمد کرنے شروع کیے۔ یہی وہ صورتِ حال تھی جس پر اکبرالہ آبادی مرحوم نے کہا تھا ۔۔ ​ توپ   کھسکی پروفیسر پہنچے اب بسولا   ہٹا تو رندا ہے ​ یعنی حرب و ضرب [توپ و تفنگ] کے سامان کے بعد تعلیم و تبلیغ کے ہتھیار سے کام لینے کا وقت آ گیا۔ بسولا یعنی تیشہ کو سامانِ حرب سے تشبیہ دی ہے اور رندا کو تعلیم و تبلیغ کے ذریعے ہموار کرنے کے عمل کے لیے بطورِاستعارہ استعمال کیا گیا ہے ۔ ​ ان مشنریوں کے مقابلے می...

زندگی جہاد اور موت شہادت

" جرات كى طرح قربانى كے بارے ميں بھی پہلے غلط فہمى ہوئى ۔ خيال تھا كہ يہ گزرے ہوئے زمانے ميں كسى زرہ پوش اور كفن بردوش جذبے كا نام تھا اور اس زمانے ميں جنگ کے ليے ڈھال، تلوار اور يہ جذبہ كام آتا تھا، اب چونکہ ڈھال اور تلوار كا زمانہ نہیں رہا اس ليے قربانى كى بھی چنداں ضرورت نہيں ہے ۔ جنگ كے بارے ميں بھی ميرى واقفيت واجبى تھی ميرا اندازہ يہ تھا كہ جنگ صرف پہلے زمانے ميں ہوتی تھی جب آدمى غير مہذب اور بہادر تھا اور اب اس كى ضرورت نہيں رہی كيونكہ آدمى مہذب اور بزدل ہو گيا ہے ۔ پہلی جنگ عظيم كا ذكر كان ميں پڑا تو خيال ميں صرف اتنى ترميم ہوئی كہ اگر موجودہ دور ميں بھی جنگ كا كوئى وجود ہے تو وہ دور دراز كے علاقوں ميں ہو گا اور ہمارے علاقے كے بارے ميں راوى جب بھی لکھے گا چين لکھے گا ۔ وقت گزرا تو يہ غلط فہمى بھی دور ہوئی، معلوم ہوا كہ جنگ تو ہر وقت اور ہر جگہ جارى ہے ار اس كے وار سے نہ كوئى خطہ خالى ہے اور نہ كوئى لحظہ فارغ ۔ اس جنگ ميں ہر قدم پر قربانى دينى پڑتی ہے اور اس كى بھی مختلف صورتيں ہوتی ہیں۔ انتہائى صورت شہادت ہے مگر بعض لوگوں كى قسمت ميں ايسى زندگی لکھی جاتى ہے کہ وہ جيتے ج...