اشاعتیں

خدا لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

خدا تک رسائی رکھنے کے دعوے دار ملا

دنیاوی خائن دنیاوی منصبوں پر قابض ہیں، دینی خائن دینی مسندوں کے لازمی مستحق ہیں، مسجد کا منبر خاندانی ورثہ ہے، شہادت گھر کی لونڈی ہے، مغفرت یقینی استحقاق ہے، جنت کا پلاٹ پیدائش سے پہلے ہی بک ہے۔ یہ رشوت، سفارش، دھونس، دھاندلی کے عادی ہیں وہ اللہ کے دین   میں تحریف وتاویل کے۔  نہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے لیے کردار کے مقرر معیار پر پورے اترتے ہیں نہ اِن کو سیاست،شہادت وقیادت کی اسلامی شرائط کا کوئی پاس ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں تو ہر کسی کی انگلی دوسرے کی جانب کیوں اٹھی ہوئی ہے؟  خدا   تک رسائی کا دعوی رکھنے والے ملاؤں کے بارے میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام ملائے حرم   از اقبال دین و دنیا   کے ایسے رہنماؤں کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی شب تاریک سحر ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ جو خود کو بدلنا نہ چاہتے ہوں ان کی دنیا میں کوئی انقلاب کیسے آئے گا؟

خدا خاموش کب ہے؟ ​

خدا خاموش کب ہے؟  ​ از ​ ڈاکٹر صابر آفاقی ​ ندا فاضلی کی نظم " خدا خاموش ہے" کے جواب میں  ​ ندا صاحب خداخاموش کب ہے؟  ندا دیتا رہا پہلے ندا دیتا ہے وہ اب بھی  صدا دیتا ہے وہ اب بھی  خدا خاموش کب ہے خدا تو بولتا ہے پر ہمارے کان بہرے ہیں  کہ آوازیں نہیں سنتے  یہ ہم ہیں جو  یہاں خاموش رہتے ہیں یہ ہم ہیں جو سدا مدہوش رہتے ہیں  جو سب نغموں کا، حرفوں کا، جو سب لفظوں کا خالق ہے اسے خاموش کہتے ہو؟ سبھی نغمے اسی کے ہیں زبانیں ساری اس کی ہیں بنوں میں ساری مہکاریں، سبھی چہکاریں اس کی ہیں اسے خاموش کہتے ہو ( ۲ ) خدا کے کام تھے جتنے  وہ اس نے کر دیے سارے کہ پھیلائی زمیں اس نے درختوں کو اگایا ہے پہاڑوں کو قرینے سے لگایا ہے ستارے جڑ دئیے اس نے  یہ سارے کردئیے روشن ہواؤں کو چلایا ہے پرندوں کو عطا کی نغمگی اس نے لبوں کو مسکراہٹ دی  سڑک پر "ڈولتی پرچھائیوں" کو زندگی دے دی  یہ سارے کام تھے اس کے  سو اس نے کر دئیے سارے ( ...