مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

کچھ دن پہلے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر برطانوی چینل فور کی ایک صحافی کیتھی نیو مین نے ٹویٹ کیا کہ وہ برطانیہ کی ایک مسجد Streatham mosqueکی جانب سے'Visit My Mosque Day' منانے کا سن کر مسجد گئیں،  لیکن  بقول ان کے انہیں  دروازے سے ہی باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ مزیدلکھا کہ میں اچھی طرح لباس پہنے اور سر ڈھانپے ہوئے تھی، میں نے جوتے اتار دیے تھے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔
Well I just visited Streatham mosque for #VisitMyMosque day and was surprised to find myself ushered out of the door...
I was respectfully dressed, head covering and no shoes but a man ushered me back onto the street. I said I was there for #VisitMyMosque mf
But it made no difference

اس ٹویٹ کو عوام اور پھر برطانوی ذرائع ابلاغ نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور گارڈین، ڈیلی میل، ہفنگٹن پوسٹ اور انڈیپینڈنٹ سمیت کئی ذرائع ابلاغ نے مسجد کے متعلق خبر مرچ مسالا لگا کر نشر کردیں جس میں مسجد کو عورت کے خلاف تک کہا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مسجد کی انتظامیہ کو دھمکی آمیز پیغامات ملے، معاملہ پولیس تک پہنچا تو واقعے کی سی سی ٹی وی وڈیو نکالی گئی جس سے ثابت ہو گیا کہ صحافی کیتھی کو مسجد انتظامیہ کے  کسی فرد نے مسجد سے نہیں نکالا بلکہ وہ محض چند سیکنڈ کے لیے ایک نمازی کے قریب رکیں جس نے انہیں راستے کی رہنمائی کی اور پھر وہ اکیلی مسجد سے نکل گئیں ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا جس نے بقول انہیں مسجد سے باہر کا راستہ دکھا دیا ہو۔
وڈیو کے سامنے آتے ہی کیتھی نے اپنا موقف بدل کر کہا شاید انہیں غلط فہمی ہوئی۔
صورت حال کے یوں تبدیل ہونے پر عوامی رد عمل کا رخ چینل فور سمیت ان تمام ذرائع ابلاغ کی جانب ہو گیا ہے جنہوں نے اس موقعے سے فائدہ اٹھا کر مسجد اور اسلام کے متعلق کہانیاں گھڑیں اور ان سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
انتظامیہ مسجد کے ترجمان اسلم اعجاز نے شروع میں کیتھی سے معذررت کر لی تھی کہ شاید انتظامیہ کی لاعلمی میں کسی نے ان کی توہین کی ہو، اور کہا کہ وہ واقعے کی تحقیق کر رہے ہیں، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد ان کا اعتماد واپس آ گیا ہے ۔اور انہوں نے اپنے اسلامک سنٹر کا زوردار دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ یہاں کوئی خواتین کے خلاف نہیں بلکہ یہاں خواتین اور مردوں کی نمازکے لیے الگ الگ انتظامات ہیں اور دونوں کے لیے مختلف سرگرمیاں ترتیب دی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ سامنے آئی کہ انتظامیہ کی جانب سے 'Visit My Mosque Day' کا اعلان تو کر دیا گیا لیکن اس روز اسلامک سنٹر میں وزیٹرز کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں تھا جس کے نتیجے میں یہ واقعہ ہو گیا۔ انتظامی ترجمان نے جواز دیا کہ اس پروگرام کا اعلاناچانک ہوا اس لیے ہمیں تیاری کا موقع نہ مل سکا، آئندہ ہم ایسے موقعے کی تیاری کر کے اعلان کریں گے۔
اس سارے واقعے نے بعض صحافیوں کے انداز صحافت یا طریق واردات کے متعلق سنگین سوالیہ نشان چھوڑے ہیں، مغربی ذرائع ابلاغ کی خیانت اور تعصب کا یہ پہلا واقعہ نہیں، کس طرح لوگ اسلام اور مسلمانوں کو عورت کے خلاف ثابت کرنے کے لیے مکروہ منصوبے بناتے ہیں  ، اور ان کی ترویج کرتے ہیں۔

مسجد کا صفحہ
http://www.streathammosque.org
متعلقہ خبروں کے روابط:
http://www.independent.co.uk/news/u...a-mosque-on-visit-my-mosque-day-10016835.html
http://www.dailymail.co.uk/news/art...te-respectfully-dressed-Visit-Mosque-day.html
http://www.theguardian.com/media/20...-turned-away-from-mosque-on-visitmymosque-day
http://www.huffingtonpost.co.uk/2015/02/01/visit-my-mosque-open-day-_n_6589114.html
http://www.independent.co.uk/news/u...a-mosque-on-visit-my-mosque-day-10016835.html

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراضات کا جواب

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

محبت جو دل بدل دے

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​