اشاعتیں

زندگی لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟

روشنی چاہیے کس مول ملے گی صاحب؟ نقدِ جاں ہے مرے پلو میں، چلے گی صاحب ؟  اے طلب گارِ وفا، یہ ہے اصولِ بازار جنس کم ہو گی، تو قیمت تو چڑھے گی صاحب  زندگی بھر کی مشقت کا صلہ، ایک سوال اب یہ گاڑی کبھی پٹڑی پہ چڑھے گی صاحب ؟ دل کے تالاب کے ٹھہرے ہوئے سناٹوں میں  سنگ پھینکو گے تو ہلچل تو مچے گی صاحب زندگی کیا، کسی مزدور کی بیگار ہوئی  اور اسی طرح سے باقی بھی کٹے گی صاحب اب افسانے کا یہ انجام نہیں بدلے گا  اب یہی فلم ہر اک بار چلے گی صاحب تم چلے جاؤ گے تو بھی یہی منظر ہوں گے  بس یہ دنیا مری دنیا نہ رہے گی صاحب  مسترد دل کی تلافی نہیں ہوتی کچھ بھی  بن بھی جائے گی تو نہ اب بات بنے گی صاحب میری خدمت، مری عزت کے مقابل رکھو پورا تولو گے، تبھی بات بنے گی صاحب سانپ تو آئیں گے اس گھونسلے کی سمت مگر چڑیا مر کر بھی نہ انڈوں سے ہٹے گی صاحب  یہ تو معلوم ہے ڈھل جائے گی یہ رات رضی  کتنی قربانی مگر لے کے ڈھلے گی صاحب ؟ ​شاعر پروفیسر ڈاکٹر سید رضی محمد

تم آنچل کو لہرا دینا

انتساب: اپنی بیٹیوں اور سارى دنيا كى نئى نسل كے نام  از : سليم كوثر  وہ سارے سمے جو بيت گئے  كيا ہار گئے كيا جيت گئے جتنے دكھ سكھ كے ريلے تھے ہم سب نے مل كر جھيلے تھے اب شايد كچھ بھی ياد نہیں  كبھی وقت ملا تو سوچیں گے آپس كے پيار گھروندوں كو  گڑیوں كے کھیل كھلونوں كو  گیتوں سے مہكتى كيارى كو  آنگن کے پھل پھلوارى كو  دھرتى پر امن كى خواہش كو  موسم كى پہلى بارش كو  كن ہاتھوں نے بے حال كيا  كن قدموں سے پامال ہوئے وہ سارے سمے جو بيت گئے  مل جل كر كتنے سال ہوئے  يہ سال مہینے دن گھڑیاں ہم سب سے آگے نكل گئے ہم جيون رتھ ميں جڑے ہوئے كبھی سنبھل گئے کبھی پھسل گئے دامن ميں صبر كى مايا ہے  کچھ آس اميد كى چھايا ہے  ہر راہ ميں كانٹے پڑے ہوئے  ہر موڑ پہ دکھ ہیں کھڑے ہوئے تم بڑے ہوئے ، تم بڑے ہوئے  اب لورى پاس نہیں رہتی  تمہیں نيند كى آس نہیں رہتی ميرى بات سنو ،  ميرى بات سنو  جب ہاں انكار ميں لپٹی ہو تصوير غبار ميں لپٹی ہو کہیں رشتے ٹوٹنے والے ہوں یا اپنے چھوٹنے والے...