اشاعتیں

ملا لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ایک جیسے بدنیت، ایک جیسا کھیل!

- " پاکستان   خطرے میں ہے   اسلام   کی وجہ سے، ملا   کو نکال باہر کرو"۔ - " اسلام خطرے میں ہے پاکستان کی وجہ سے،ہم تو پہلے ہی ڈرتے تھے یہ ملک نہ بنایا جائے !" پاکستان دشمن اور   اسلام دشمن، ایک جیسا کھیل، ایک جیسے دلائل، ایک جیسا شورشرابہ، ایک جیسے بدنیت ۔۔۔ کبھی آپ نے سوچا؟ اسلام کی   حفاظت   کے لیے پاکستان کو   گالی   دینا ضروری کیوں ہے؟ پاکستان کی حفاظت کے لیے اسلام کو گالی دینا ضروری کیوں ہے؟ خدا اسلام اور پاکستان سے بیک وقت محبت کرنے والوں کو میدان عمل میں آنے کی توفیق دے !

خدا تک رسائی رکھنے کے دعوے دار ملا

دنیاوی خائن دنیاوی منصبوں پر قابض ہیں، دینی خائن دینی مسندوں کے لازمی مستحق ہیں، مسجد کا منبر خاندانی ورثہ ہے، شہادت گھر کی لونڈی ہے، مغفرت یقینی استحقاق ہے، جنت کا پلاٹ پیدائش سے پہلے ہی بک ہے۔ یہ رشوت، سفارش، دھونس، دھاندلی کے عادی ہیں وہ اللہ کے دین   میں تحریف وتاویل کے۔  نہ وہ ممبر پارلیمنٹ ہونے کے لیے کردار کے مقرر معیار پر پورے اترتے ہیں نہ اِن کو سیاست،شہادت وقیادت کی اسلامی شرائط کا کوئی پاس ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں تو ہر کسی کی انگلی دوسرے کی جانب کیوں اٹھی ہوئی ہے؟  خدا   تک رسائی کا دعوی رکھنے والے ملاؤں کے بارے میں علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا عجب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو تری نگہ سے ہے پوشیدہ آدمی کا مقام تری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال تری اذاں میں نہیں ہے مری سحر کا پیام ملائے حرم   از اقبال دین و دنیا   کے ایسے رہنماؤں کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی شب تاریک سحر ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ جو خود کو بدلنا نہ چاہتے ہوں ان کی دنیا میں کوئی انقلاب کیسے آئے گا؟

یہ تاجران دین ہیں

عجیب بات ہے کہ طاہر اسلام عسکری کذاب جیسے لوگ جو خود اپناعقیدہ نہیں جانتے، کبھی رافضیت کی طرف لڑھک جاتے ہیں، کبھی اعتزال کا چغہ پہن لیتے ہیں اور کبھی صرف جاہ پرستی شروع کر دیتے ہیں، آج محدث فورم پر بیٹھ کر دوسروں کا عقیدہ بتانے لگے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے نام پر چندے بٹور کر ادارے بناتے ہیں پھر اس میں بیٹھ کر لوگوں کی عزت اچھالتے ہیں، اپنی سماجی حیثیت کے زعم میں خاموشی سے کام کرنے والوں  کو پریشان کرتے ہیں، اللہ کی خاطر کام کرنے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہے اتنا سوچنے کا ایسے مردہ دل ، بے حس لوگوں کے پاس وقت نہیں۔ یہ بے ضمیر مُلا ذاتیات کی خاطر انسانوں کے عقائد اور دین پر حملہ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی غیر مشروط اطاعت کی جائے؟  یہ تاجرانِ دِین ہیں  خدا کے گھر مکین ہیں  ہر اِک خدا کے گھر پہ اِن کو اپنا نام چاہیے خدا کے نام کے عوض کُل انتظام چاہیے یہ نفس کے اسِیر ہیں  یہ لوگ بے ضمِیر ہیں ان جیسے بے ضمیروں کی وجہ سے  جو بھی ہو،اس بات سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کی تجارت چلتی رہے بہت ہے۔  یہ بات واضح ہو ...