حلیہ مطہرہ بزبان ام معبد رضی اللہ عنہا

نبي كريم حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے حليہ مباركہ کے سلسلے ميں مروى حديث ام معبد رضي اللہ عنہا، طالبان علم كے نزديك معروف ہے۔ محترم عليم ناصرى حفظہ اللہ نے اپنی رزميہ مسدس "بدر نامہ" ميں اس كو بہت خوب صورتى سے نظم كيا ہے۔


" بولى عفيفہ مادرِ معبد كہ كيا كہوں؟
حيران ہوں كيسے اس ﷺ كا سراپا بياں كروں ؟
اوصاف اس حبيب ﷺ كے ميں كس طرح گنوں ؟
اس كے حسيں وجود كو تشبيہ كس سے دوں ؟

وہ پیكرِ جميل سراپا جمال ہے !
ميرى زباں سے اس كى ستائش محال ہے !

پاكيزہ رو، كشادہ جبيں، چشم سرمگیں
گردن بلند، پتلياں روشن، قد حسيں
شيريں كلام، جادو بياں، نطق انگبين
پیوستہ ابرو، غاليہ مو، زلف عنبريں

دل بستگی ليے ہوئے خاموش و پروقار 
آواز پر جلال و ہمہ تمكنت شعار!

ديکھیں جو دور سے تو وہ زيبا دكھائى دے !
بولے تو كھینچتا ہوا دل كو سنائى دے ! 
گفتار موتيوں كى لڑى سى سجھائى دے
مظلوم اس كے پاس پنہ كى دہائى دے 

اس كے رفيق سنتے تو ہیں بولتے نہیں
فرمان پر زبان كبھی كھولتے نہیں"

شاعر: علیم ناصری
اقتباس از : بدر نامہ ، رزميہ مسدس ص 74 

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراضات کا جواب

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

محبت جو دل بدل دے

موسم کے ساتھ رنگ بدلتے اہل دانش

شعائر اسلام کا استہزا اور آزادئ اظہار کی حدود