سوشل میڈیا کے علامہ، سکالرز اور استاذ

ایک زمانے میں علامہ کا لقب بہت پٹ گیا تھا، اور پٹا ان کی وجہ سے تھا جو خود کو زبردستی علامہ کہلواتے تھے بلکہ طرہ یہ کہ نہ کہنے والے سے ناراض ہو جاتے تھے، پھر زمانے نے کروٹ لی، خود کو علامہ کہلوانے والوں نے سکالر کہلوانے پر اصرار شروع کر دیا، جتنی تیزی سے کیبل چینل اگے اتنی ہی تیزی سے سکالر پھوٹے، جس طرح برسات میں کھمبیاں اگتی ہیں یا کائی لگتی ہے بالکل اسی طرح آج کل استاذ پیدا ہو رہے ہیں، کل مسیں بھیگتی ہیں آج استاذ ہو جاتے ہیں۔تفسیر اور تجوید کے ابتدائی ڈپلومےحاصل کرتے ہی استاذہ بننے کا رجحان بھی  زوروں پر ہے۔ جس نے کسی جامعہ کی شکل نہیں دیکھی وہی استاذ ہے۔ طب نبوی اور طب جدید دونوں کا بیڑہ غرق اور مریض کا سوا ستیاناس کرنے والے نیم حکیموں کا جمعہ بازار لگتا جا رہا ہے۔ جس کا بس اپنے میدان میں نہیں چلا وہ بڑے فخر سے بتاتا ہے کہ ویسے تو میرا میدان اور ہے لیکن میں تم کو تفسیر کتاب اللہ پڑھانے پر مامور ہوں۔ جھاڑ پھونک المعروف امیر خواتین کا بالمشافہ روحانی علاج بھی ایک سائڈ بزنس کے طور پر جاری ہے۔ یوٹیوب پر پانچویں وڈیو آتے ہی "حضرت استاذ" علمی شہرت کے حامل قرار پاتے ہیں۔ علمی القاب پر ہماری قوم جس تیزی سے ہاتھ صاف کرتی ہے اتنا زور حصول علم پر لگاتی تو آج تنزلی کا یہ عالم نہ ہوتا۔
سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو فالو کرنے والے طفلان مکتب سے بس اتنی سی درخواست ہے کہ جس "استاذ" سے سبق لیں پہلے اس کی علمی قابلیت پر حقیقت پسندانہ نگاہ ڈال لیں کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی ابلیس کا متعین کردہ استاذ انہیں کسی اور جانب لے جائے۔ دین کا علم اتنی سستی چیز نہیں کہ ہر جگہ سے لے لی جائے۔ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ اور جن سے بے تکلفی ہے ان سے کہنا ہے کہ آپ کے ذوق کو کیا ہو گیا بھئی؟

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول