کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

کل ایک بہت عزیز بہن نے سوال کیا کہ جزاک اللہ خیرا کا کیا جواب ہے اور کیا اس کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟
 یوں تو اس کے کافی دلائل ہیں لیکن جلدی میں اس کے کچھ دلائل یہاں ربط سمیت فراہم کر رہی ہوں ۔سوال کرنے والی بہن سے معذرت کہ تمام فتاوی کا اردو ترجمہ مصروفیت کی وجہ سے ممکن نہیں۔ 
ڈاکٹر عبدالمحسن بن حمد العباد کا فتوی
"جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنے میں کوئی حرج نہیں اس کا مطلب ہے آپ کو بھی اللہ جزا دے۔ یہ درست بات ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ "
حوالہ:
 http://ar.islamway.net/fatwa/33045/حكم-قول-وإياك-للقائل-جزاك-الله-خيرا
شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ السحیم کا تفصیلی فتوی جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ وایاک کہنا بدعت نہیں۔
http://www.almeshkat.net/vb/showthread.php?t=137692
مزید:  http://majles.alukah.net/t109856/

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراضات کا جواب

فکرِ اقبال اور قادیانی تحریک​

جو تیری یاد کا مسکن ہو مولا میرے دل کو ایسا دل بنا دے