حکایات خوں چکاں





ہوا گنگ ہے فضا چپ ہے۔۔۔

زمیں پر آسمانی شعلہ باری ہے !

سبھی  چشموں کا پانی پتھروں نے پی لیا ہے

پرندے تشنہ لب ہیں جاں بہ لب ہیں

تپش سےان کی چونچیں بھی پگھلتی جا رہی ہیں۔۔۔

مگر ان کے پروں پر تشنگی کے خشک دریا ہیں

زمیں اب لو کی شدت سے مسلسل تپ رہی ہے

درختوں پر بہاروں کا مقدر جل رہا ہے۔۔۔

رَوِش پَر تتلیوں کے پَر کٹے ہیں۔۔۔

چیونٹیوں کے گھر جلے ہیں۔۔۔

چمکتی ریت نے جیسے دریا  پی لیا ہے !

کنارے پر مَری ان مچھلیوں نے نوحہ لکھ دیا ہے

ہوا گنگ ہے فضا چپ ہے۔۔۔

زمیں پر آسماں کی شعلہ باری ہے

*******

نسیم تقی جعفری 

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراضات کا جواب

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

محبت جو دل بدل دے

موسم کے ساتھ رنگ بدلتے اہل دانش

شعائر اسلام کا استہزا اور آزادئ اظہار کی حدود