انگریز کے یرغمالی


افضل جوزف كے گھر کے قريب ڈاكٹر ماہ گرفتہ كا گھر ہے۔ سيٹھی کے فليٹ كى سيڑھیوں كے ساتھ لقمہ ء لذيذ نام كا ايك چھوٹا سا ريستوران واقع ہے۔ خواجہ نعيم كے گھر جاتے ہوئے جوتوں کی دكان كے بورڈ پر نظر پڑی۔ نام ہے برہنہ پاہا۔ ننگے پاؤں۔ مرزا صاحب كے گھر كے راستہ ميں بجلی كے ليمپ اور فانوس بیچنے والے نے دكان كا نام چراغ ونور ركھا ہوا ہے۔ محمود اور شميم كے گھر کے پاس زمين دانش گاہ يعنى يونيورسٹی کیمپس واقع ہے جہاں ہر طرح كے لوگ پائے جاتے ہیں۔ دانش جو دانش پرور، دانش پرست، دانشور، دانشى اور دانش دوست ۔ یہاں علم ودانش كے مراكز كو دانش گاہ، دانش كدہ، دانش سرا، دانش پناہ اور دانش آباد كہتے ہیں۔ يہ اہل دانش ٹھہرے۔ اگر ہمارى طرح انگريز كے يرغمالى ہوتے تو يہاں بھی قدم قدم پر يونيورسٹی ، كالج، اسكول، انسٹیٹیوٹ ، فيكلٹی ، ڈپارٹمنٹ اور بيورو كا جال پھیلا ہوتا۔ 
 یہاں اس قسم كى بد مذاقى كى كوئى گنجائش نہیں ہے ۔
(مختار مسعود، لوح ایام) 

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول