اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے

اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے
جو ایک خون کے رشتے میں تھے پروئے ہوئے

خلا کے دشت میں گرم سفر ہے قریۂ خاک
بدن میں اپنے زمانوں کا غم سموئے ہوئے

اجاڑ دے نہ کہیں آنکھ کو یہ ویرانی
گزر گئی ہے اب اک عمر کھل کے روئے ہوئے

تم اپنا وار سلامت رکھو کہ ہم نے بھی
یہ طور دیکھے ہوئے ہیں، یہ دکھ ہیں ڈھوئے ہوئے

کبھی کبھی یہ چراغ آسماں کے دیکھتے ہیں
ہماری آنکھ میں یادوں کے زخم دھوئے ہوئے

کھڑے تھے ہم سر ساحل یہ دیکھنے کے لیے
کہ باخبر ہیں کہاں کشتیاں ڈبوئے ہوئے


خالد علیم



تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول