كہاں ہے آہ اب وہ مسلموں كى كار پردازی ؟

كہاں ہے آہ اب وہ مسلموں كى كار پردازی ؟
مٹا دى تھی جہاں سے جس نے غيروں كى فسوں سازى 

امير و حاكم و شاہ و سپاہی ، صَف شِكن ہم تھے 
مجاھد اور منصور و مظفّر، فاتح و غازى 

ہمارا كام تھا زُھد و عِبادت، طاعَت و تقویٰ 
ہمارا شُغل تھا احسان و حِكمت ، عِلم پَردازى 

ہمارى عَقل كرتى تھی طَلِسم و سِحر كو باطل 
ہمارے كارناموں سے عَياں تھى شانِ اِعجازى 

وہ جرات تھی، وہ ہمّت تھی، وہ اِستَقلال تھا ہم ميں 
مُہماتِ زمانہ كو سمجھتے تھے ہم اِک بازى 

كہاں اب وہ مساوات و اخُوّت ، وہ مُحبّت ہے ؟
كہاں وہ دوستى ، وہ ہم نشينى اور ہم رازى ؟

كبھی جو تھے بلندى اَوج پر، وہ گر پڑے تھک كر 
شِكَستہ بال وپر كو آج كل سُوجھی ہے شَہ بازى

كہاں ہے آہ اب وہ مسلموں كى كار پردازی 
مٹا دى تھی جہاں سے جس نے غيروں كى فُسوں سازى 


شاعر: نامعلوم


تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

رمضان میں خواتین عبادت کا وقت کیسے نکالیں؟

نبی کریم ﷺ کی ازدواجی زندگی پر اعتراضات کا جواب

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

محبت جو دل بدل دے

موسم کے ساتھ رنگ بدلتے اہل دانش

شعائر اسلام کا استہزا اور آزادئ اظہار کی حدود