داعیاتِ دین حفظہن اللہ برساتی جھینگروں کے نرغے میں

الحمد للہ و كفى وسلام على عبادہ الذين اصطفى وبعد ...
قارئين كرام ، السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاتہ،
جس وقت راقمہ يہ سطور رقم كر رہی ہے برساتى جھينگروں کے بے سرے راگوں نے آسمان سر پر اٹھا ركھا ہے ، برساتى جھينگروں كى عجيب نفسيات ہوتى ہے ، ايك كسى كونے سے سَر نكال كر مبہم سا سُر نكالتا ہے، دوسرا جواب ميں صدا ديتا ہے، تيسرا ہاں ميں ہاں ملاتا ہے ، اور پھر مل جل كر باجماعت بنا سمجھے بنا سوچے وہ شور اٹھتا ہے كہ كان پڑی آواز سنائى نہيں ديتى ۔ برساتى جھينگر... الامان الحفيظ ۔
سائبر دنيا ميں بھی برساتى جھينگروں جيسے بے سوچے سمجھے پکے راگ الاپنے والوں كى كوئى كمى نہيں ۔ جس طرح گاؤں كى چوپالوں ميں بعض بھائى كے مردہ گوشت كے شوقين كسى كا ذاتى تذكرہ شروع كرتے ہيں اور پھر بنا سوچے سمجھے بےتُكى ہانکتے جاتے ہيں، اسى طرح قوم كمپيوٹر لٹريٹ ہو گئی، چوپالوں سے اٹھ كر فورمز پر آ بيٹھی ، ليكن وہی بےہودہ عادتيں ساتھ اٹھا لائى ، ذوق سقيم كى تسكين آج بھی بہنوں بھائيوں كا مردہ گوشت كھانے سے ہوتى ہے۔ كہنے كو داعيانِ دين كا اكٹھ ہے ليكن دراصل داعياتِ دين كى گوشت خورى جارى ہے ۔ جناب شوق سے تناول فرمائيے ،كون ہے جو آپ كو اس شغل سے روكنے كى جسارت كرے؟ يہ مضمون آپ جیسے صِنفی متعصب حضرات كو روكنے كے ليے لکھا بھی نہيں گيا ، يہ غير جانب دار،غیرمتعصب اور معقول تجزيہ كرنے كے اہل لوگوں كے ليے ہے۔
ايك مضمون زير نظر ہے ۔ عنوان ہے :   

عنوان ديكھ كر خيال آتا ہے نجانے صاحب تحرير حقائق كا كون سا پينڈورا باكس کھولنے والے ہيں ؟ ليكن وائے قسمت چوپالى داستانوں كى طرح

؂ مضمون يہاں بھی گونگے ہيں ، عنوان يہاں بھی اندھے ہيں !
ابتدائيہ ميں ارشاد ہے :
سچی بات تو یہ ہے کہ اس احقر کو الہدیٰ انٹر نیشنل اور اس کی روح رواں ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کے بارے میں محترمہ کے حامیوں اور ان کے مخالفین دونوں کے طرز گفتگو نے مجھے مایوس اور اس دو طرفہ طرز عمل نے مجھے مزید کنفیوز کر دیا ہے ۔ چنانچہ اپنی اس کنفیوزن کو دور کرنے کی غرض سے اس دھاگہ کو شروع کیا ہے۔
 قارئين كرام كيا كسى معزز شخصيت كے متعلق كوئى ابہام (كنفيوژن) كو دور كرنے كا متمنى شخص اپنى تحرير كا عنوان اس قسم كا پسند كر سكتا ہے؟ ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ: حقائق کے کٹہرے میں

مزيد ہدايت جارى ہوتى ہے :  
ذیل میں ہم ڈاکٹر صاحبہ پر کئے گئے چند سنجیدہ اعتراضات پر گفتگو کا آغاز نہایت سنجیدگی سے کر رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ الہدیٰ انٹرنیشنل اور ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے حامی و مخالفین دونوں سنجیدگی سے اور تہذیب کے دائرے میں مکالمہ کرکے اس احقر جیسے بہت سے لوگوں کی کنفیوزن دور کریں گے۔
 يعنى اب اس قسم كے غير مہذبانہ اور جاہلانہ عنوان كے تلے يہ ہدايت جارى كى جارہى ہے كہ تہذيب كے دائرے ميں رہیے؟ اسے كہتے ہيں اوروں كو نصيحت خود مياں فضيحت !
قارئين كرام دراصل حقائق كے اس نام نہاد كٹہرے كے يہ اعتراضات عرصہ دراز سے غالى بدعتى سائٹس پر موجود تھے اور صاحب تحرير نے صرف ان كو نقل كرنے زحمت انجام دى ہے۔ اسى ليے يہ سب ہفوات يہاں مليں گی

:



 ان ہفوات كو پيسٹ كرنے والے ابہام دور كرنے كے متمنى غير جانب دار صاحب كو نتيجہ نكالنے اور مقصود كہہ ڈالنے كى اتنى عجلت ہے كہ فورا ہی بلى تھيلے سے باہر آجاتى ہے۔ جلد ہی ارشاد ہوتا ہے
یاد دہانی۔ واضح رہے کہ میرا شمار تاحال نہ ڈاکٹر صاحبہ کے ثنا خوانوں میں ہے نہ نکتہ چینوں میں۔ میں خود ذاتی طور پر پہلے قرآن و حدیث کے مطالعہ کا قائل ہوں اور اسی کا پرچار کرتا ہوں۔ ہم ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کو سنے بغیر، ان کی حمد و ثناء کئے بغیر، ان پر تبرا بازی کئے بغیر بھی اسلام کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ آج کل ڈاکٹر صاحبہ ’’ٹالک آف دی ٹاؤن‘‘ بنی ہوئی ہیں، اور آپ کی وجہ سے اصحاب علم کی صف بندیاں ہو چکی ہیں ایک گروپ ڈاکٹر صاحبہ کی حمایت میں اور دوسرا گروپ مخالفت میں مضامین، کتابیں اور فتوے جاری کر رہا ہے، تو میں نے سوچا کی محض حمایت یا محض مخالفت کی سطح سے بالا تر ہوکر ان ’’موضوعات‘‘ پر گفتگو کی جائے، جس کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحبہ ’’ٹالک آف دی ٹاؤن‘‘ بنی ہوئی ہیں۔ اس طرح ہم عوام الناس کے کنفیوزن کو دور بھی کر سکیں گے، اور شخصیات کو پس منظر میں کرکے اصل موضوعات پر گفتگو کر سکیں گے۔ اے کاش کہ ایسا ممکن ہوسکے۔
آپ سب کے خیر خواہانہ جوابات کا بہت شکریہ۔ میرا یہ دھاگہ متذکر ہ بالا دو تین رسالوں میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے حوالہ سے حمایت برائے حمایت اور مخالفت برائے مخالفت جیسی تحریروں کو پڑھنے کا نتیجہ ہے۔ ان کتب میں موجود ’’علماء‘‘ کی تحریروں میں اس طرح کے بیانات عام ہیں ، جن سے پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کی ’’سرگرمیوں‘‘ سے ان کی صفوں میں کچھ نہ کچھ ’’ہلچل‘‘ ضرور پائی جاتی ہے۔

سبحان اللہ كيا مہذبانہ طرز گفتگو ہے وہ بھی ايك معمر معلمہء قرآن كے متعلق؟ جس كى سارى عمر قرآن مجيد كى طرف دعوت ديتے ہوئے گزر گئى ؟
دراصل سارى ہفوات كا بنيادى مقصد يہ ہے
ہم ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کو سنے بغیر، ان کی حمد و ثناء کئے بغیر، ان پر تبرا بازی کئے بغیر بھی اسلام کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں اور ان پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں 


 يعنى وہی بدعتى تبليغ كا اعادہ ڈاكٹر صاحبہ سے دور رہیے ، ان كى بات مت سنیے ۔
اچھا تو پھر كس كى سنیے؟ اب اصل بات شروع ہوتى ہے صاحب تحرير كى سنيے كيونكہ يہ مصنف "پیغام قرآن " ہيں
یوسف ثانی، مدیر اعلیٰ: پیغام قرآن ڈاٹ کام ،
مؤلف: پیغامِ قرآن و حدیث، یوسف ثانی بلاگ
 بھلا "يوسف ثانى" كے ہوتے ہوئے خواتين ڈاكٹر فرحت ہاشمى (حفظھا اللہ من الحساد ) سے پيغامِ قرآن سمجھيں؟ برداشت نہيں ہوتا نا جى ؟ برداشت نہيں ہوتا ! صرف اسى ليے پرانے راگ كو نئے سرے سے نئى ويب سائٹس پر الاپا جا رہا ہے ۔


تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول