اپنی بیوی کو کبھی گاڑی چلانا مت سکھانا ۔ جنید جمشید کی تبلیغ

ہمارے ملک کے معروف مبلغ حضرت جنید جمشید صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کے حسن کی وجہ سے کتنا ان سیکیور محسوس کرتے تھے کہ کہیں۔۔۔ اس لیے انہوں نے اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ نہیں سکھائی۔ ان کا کہنا ہے کہکوئی بھی مرد جو یہ دیکھ رہا ہے اس کو وہ کہیں گے اپنی زندگی پر تمہارا احسان ہو گا کہ اپنی بیوی کو کبھی ڈرائیونگ کرنا مت سکھانا کیوں کہ جس عورت کو بہت زیادہ گھر سے باہر نکلنے کی عادت پڑ جائے اس کو گھر بیٹھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ "
یاد رہے کہ حضرت نے اپنی ذاتی زندگی اور اپنی نفسیاتی کیفیت کے متعلق یہ باتیں خود کھلے عام ذرائع ابلاغ پر شئیر کی ہیں اور کسی کی حسین بیوی کو بے تکلفانہ انٹرویو دیتے ہوئے شئیر کی ہیں جسے وہ بہت آرام سے تم کہہ کر مخاطب ہیں۔ 
اگر وہ دوسروں کے لیے وہی پسند کرتے جو اپنے لیے کرتے ہیں تو یہ انٹرویو کسی مرد کو دینا پسند کرتے ۔ بجائے اس کے کہ جنید جمشید صاحب ایک مسلم مبلغ کی طرح عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں اسلام کے قوانین کو معیار بناتے انہوں نے اپنی ذاتی نفسیاتی کیفیت کو معیار بنا کر فیصلہ کیا کہ اپنی بیوی کو گھر سے باہر نہ جانے دو۔ان کے مداحوں اور  مقلدین سے معذرت کے ساتھ ایک مبلغ کوصرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ترجیح دینی چاہیے۔ 
(اس بے ربط گفتگو کا ربط:   https://www.youtube.com/watch?v=wQc20gdW5jo) 
یہ امہات المومنین اور صحابیات مطہرات رضی اللہ عنہن کو بھی بھول گئے جو اسلامی حدوود میں رہ کر گھر سے نکلتی تھیں اور بڑے وقار سے نکلتی تھیں، ان کے سر پر صرف اپنی مشکل سوار رہی۔ اسی لیے تواسلام نے ہدایات دی ہیں کہ عورت سے اس کے حسن وجمال نہیں دین کی بنا پر شادی کرو اور جو دین دار ہو گی وہ بے حجاب نکلے گی ہی نہیں کہ کسی کی بری نظر اس کا پیچھا کرے۔ اور جہاں تک میرا مشاہدہ ہے بے پردہ مسلمان عورتوں میں بھی بہت سی باوقار اور با وفا خواتین ہوتی ہیں، یہ کوئی اصول نہیں ہے کہ عورت گھر سے نکلتے ہی بے وفائی کو تیار ہوتی ہے۔ ایسا وہی کہہ سکتا ہے جس کو انسانوں میں اعلی اقدار پر یقین ہی نہ ہو۔ الحمدللہ ہمیں زیادہ تراعلی اقدار کی حامل خواتین ہی ملی ہیں جو باپردہ ہو ں یا بے پردہ اپنا وقار برقرار رکھنا جانتی ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں ایسی بہت سی بہنیں ہیں جو ان حدود میں رہ کر جو اسلام نے مقرر کی ہیں روز گھر سے نکلتی ہیں، ڈرائیونگ جانتی ہیں، پردہ کرتی ہیں، اور اپنے کردار کی مضبوطی کے لیے معاشرے میں معروف ہیں۔ ان میں سے کئی شادی شدہ ہیں اور کبھی بھی اپنے شوہروں سے بے وفائی کی مرتکب نہیں ہوئیں نہ ہی ان کے شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی بیوی باہر گئی تو ان کی شادی خطرے میں ہو گی۔
سارا مسئلہ ان سیکیور شکی ذہنیت کا ہے لیکن جب لوگوں نے ایک شخص کو مبلغ مان لیا ہے تو اس کا کہا ہر حرف اسلام ہی بنے گا۔ عورت کے متعلق جنید جمشید کے یہ افکار ان لوگون کے لیے کوئی حیرت کی بات نہیں جنہوں نے اس مسلک  کی کتابوں کا مطالعہ کر رکھا ہے جہاں سے جنید جمشید فکری غذا لیتے ہیں۔ وہاں بھی قرآن و حدیث سے روشنی لینے کی بجائے حضرات کے ملفوظات اور ذاتی تجربات پر زور ہوتا ہے یہاں بھی وہی عالم ہے۔
سجی بنی عورتوں کے درمیان بیٹھ کر اسلام کی تشریح کرنے والے ایسے مشہور مبلغین کے نزدیک صرف اداکارہ کی زندگی بری ہے، اداکار، ہدایت کار، پیش کار ، پروڈیوسر، یا چینل مالک کی خراب زندگی کے بارے میں کوئی بات نہیں۔ یہ حضرت خود شوبز میں  ہیں انہیں اچھی طرح پتہ ہے اداکارہ بہت حدتک صرف ایک شو پیس ہوتی ہے، اصل طاقت ڈائریکٹر سے لے کر چینل مالک کے پاس ہوتی ہے۔ وہ جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں اس پر بولنےسے حضرت کی آمدن خراب ہو گی۔چند پیسوں کی ملازم کمزور اداکاراؤں کو برا بھلا کہہ لیں وہ کون سا ان کے کسی نئے کانٹریکٹ پر اثرانداز ہو سکتی ہیں؟ ان کو انٹرویو دیں اس میں اچھی اسلامی باتیں کریں ہم خرما و ہم ثواب!
بعض متکبر داعی حضرات کم ہی سوچتے ہیں کہ ان کے الفاظ کا کسی عورت پر کیا اثر ہو گا۔ وہ اپنی دنیا میں مست ہیں، واہ واہ کی خوشامدی برسات میں کس کو خیال آتا ہے کہ اپنے آپ کو مزید بہتر ، مزید سننے کے قابل بنائے؟ آپ مطالعہ کیے بغیر ہی داعی بھی ہیں، نعتیں بھی پڑھتے ہیں، اینکر بھی ہیں، پریزنٹر بھی ہیں، بزنس مین بھی ہیں اور سب سے پیسہ کما رہے ہیں تو احتیاط کیسی؟
بے حسی اور تکبر کو مردانگی سمجھنے والے ہمیشہ اسلام کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ اسلام کا مطالعہ کھلے دل سے نہیں کرتے ، اپنے حق میں دلائل ڈھونڈنے کے لیے کرتے ہیں۔ اور کم و بیش ہر مذہبی جماعت میں اسلام کے مطالعے سے زیادہ کچھ مخصوص کتابیں پڑھوانے پر زور ہوتا ہے۔ پھر جنید جمشید جیسی کلوز مائنڈڈ پراڈکٹ ہی نکلے گی۔ ان لوگوں کا ایک لیکچر سن کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید اور حدیث کا کتنا مطالعہ کر رکھا ہے۔


تبصرے

مقبول ترین تحریریں

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

حب رسول

قصيدة _ انتظار، من الشعر الأردي المعاصر