نرالے سوالی (3)

نرالے سوالیوں کی ایک اور عادت یہ ہوتی ہے کہ ہر علم اور ہر مہارت (سپیشلائزیشن) میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ دوسرے علوم کے ماہرین کے متعلق ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ تو گھامڑ ہی ہیں ، ہم دو سوالوں میں ان کو زیر کر لیں گے ۔ دوسرے لفظوں میں ہمچو ما دیگرے نیست ۔

ایسے ہی دو ذہین سوالی پہلی بار ایک کمہار کے پاس گئے ۔ کمہار نے مٹی کے برتن بنا بنا کر دھوپ میں اوندھا رکھے تھے ۔ انہوں نے سادہ لباس میں ملبوس عام سے کمہار پر حقارت بھری نظر ڈالی اور برتنوں کا معائنہ کرنے لگے ۔
پہلا ایک ہنڈیا پر ہاتھ پھیر کر بولا : دیکھو ذرا یہ کمہار کیسا بے وقوف ہے ؟ ہنڈیا کا منہ بنایا ہی نہیں !
دوسرے ذہین سوالی نے ہنڈیا اٹھا کر دیکھی بھالی ۔پھر کمہار سے پوچھا : ارے احمق تم اس کا پیندا بنانا بھی بھول گئے ؟

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول