ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی

ہم نے تجدیدِ زندگی کر لی 
اپنے دشمن سے دوستی کر لی 

بجھ گئے جب ہوا سے گھر کے چراغ
ہم نے اشکوں سے روشنی کر لی

تیری تصویر نے کمال کیا
چپ رہی اور بات بھی کر لی

شہر میں آ گئے ہیں کس کے قدم 
ساری بستی نے خود کشی کر لی

دیکھ کر وقت کے خداؤں کو 
ہم نے خود اپنی بندگی کر لی

اب کسی راہ زن کو ڈھونڈیں گے
رہبروں نے تو رہبری کر لی

کچھ خبر تو ہے تجھے دل ناداں 
تو نے کس سے برابری کر لی

اب نہ آئیں گے تیری باتوں میں
دل بہت تو نے دِل لگی کر لی

دیکھیے کیا صلہ ملے اعجازؔ
زندگی بھر تو شاعری کر لی

شاعر: اعجازؔ رحمانی

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول