قرآ ن و حدیث میں تحریف جائز نہیں چاہے تبلیغ کی خاطر ہو

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعض لوگوں میں تبلیغ کا جذبہ ہوتا ہے لیکن ضروری علم نہ ہونے کی وجہ سے ان کو دلائل معلوم نہیں ہوتے۔ بجائے حصول علم کی صبر آزما مشقت کے وہ آسان راستہ منتخب کرتے ہیں۔ تبلیغ کے نیک مقصد کی خاطر جھوٹ بولنے، تحریف کرنے کا راستہ۔ آپ کو ایسے بہت سے مذہبی افراد ملیں گے جو یہ معلوم  ہونے کے بعد بھی کہ ان کی بیان کی گئی روایت جھوٹی ہے اسے پھیلانے سے باز نہیں آتے۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ چاہے جھوٹی روایت ہے لیکن لوگوں پر اثر بہت کرتی ہے۔ یہ تبلیغی تجارت ہے جو چیز عوام میں ہاتھوں ہاتھ بکے گی وہ اس کو ضرور بیچیں گے۔ 
تبلیغ کے اسی ناپختہ تصور کی وجہ سے نوبت یہاں تک آ گئی کہ لوگ قرآنی آیات اور احادیث کی معنوی تحریف سے بھی باز نہیں آ رہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تبلیغ میں انوکھی باتیں کریں جو عوام نے ان سے پہلے کسی مبلغ سے نہ سنی ہوں۔ اسی دوڑ میں آیات و احادیث کا من مرضی کا ترجمہ ہو رہا ہے۔کسی حدیث کا درست معنی کیا ہے اس سے ان کو کوئی غرض نہیں۔ 
سنن ابی داود کی ایک حدیث شریف ہے: لَا يَقْبَلُ اللّہ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ۔ ترجمہ: اللہ تعالی بالغ لڑکی کی نماز سر کی چادر کے بغیر قبول نہیں فرماتے۔ 
اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب لڑکی بالغ ہو جائے تو نماز کے لباس میں سر کی چادر شامل ہونا ضروری ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ سر ڈھکے بغیر اگر کوئی بالغ لڑکی نماز پڑھے گی تو وہ قبول نہیں ہو گی کیوں کہ اس میں نماز کی بنیادی شرائط کا خیال نہیں رکھا گیا۔ 
افسوس سوشل میڈیا پر بعض لوگ اس حدیث مبارک کا یہ ترجمہ پھیلا رہے ہیں کہ :" اللہ اس عورت کی نماز قبول نہیں کرتا جو بالغ ہونے کے بعد پردہ نہیں کرتی۔ " یہ حدیث شریف میں معنوی تحریف ہے۔ احکام دین میں تحریف وہ جرم ہے جس کی پاداش میں پہلی قومیں برباد ہوئیں۔ ہم ان کی مذمت میں اتری آیات روز تلاوت کرتے ہیں اور دعوت دین کے نام پر وہی کام کرنے چلے ہیں؟ 
ان لوگوں کو سمجھایا گیا کہ یہ درست ترجمہ نہیں تو بتانے لگے کہ اس ترجمے سے کون سے تبلیغی فوائد مل سکتے ہیں۔پستی کی انتہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ انہیں دعوتی مقاصد کے لیے کافی نہیں لگتے۔ العیاذ باللہ ۔ وہ یہ سوچنا نہیں چاہتے کہ اسے پڑھنے والی ایک بے پردہ لڑکی یہ بھی سوچ سکتی ہے کہ چوں کہ میں پردہ نہیں کرتی اس لیے مجھے نماز بھی چھوڑ دینی چاہیے کہ وہ قبول نہیں ہو گی۔ یہ اللہ کے بندوں کو اس کے دینِ رحمت سے دور لے جانے والی سوچ ہے۔
ایمان اور امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دین میں صرف وہ کہیں جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے۔ انسانوں کے دل موم کرنا، ان پر اثر ڈالنا اس ذات کا کام ہے جو دل بدلنے پر قادر ہے۔ مخلوق کا دل بدلنے کی خاطر ہمیں اللہ کا دین بدلنے کی ضرورت نہیں۔کیا ہم یہ سادہ سی بات نہیں سمجھ سکتے کہ سچ بات پھیلانے کے لیے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہمیں تبلیغ کرنے سے پہلے تبلیغ کا علم حاصل کرنے کی بھی ضرورت ہے، تا کہ معلوم ہو کیسی تبلیغ درست ہے اور کیا چیز تبلیغ نہیں بلکہ شیطان کی چال ہے۔ یہ بات کسی داعی یا مبلغ کی حوصلہ شکنی کے لیے نہیں، ان کا راستہ درست ہے لیکن سمت غلط ہو رہی ہے۔ انسان ایک بار غلط سمت رخ کر لے تو سیدھے راستے سے دور نکل سکتا ہے۔ ایک مسلمان کی خیرخواہی ہمارا فرض ہے۔ 
اللہ ہمیں اپنی سچی محبت عطا کرے۔ ہمیں شہرت کی ہوس سے پہلے علم کی پیاس نصیب ہو۔ ہمارے دلوں میں عوامی مقبولیت سے پہلے بارگاہ الہی میں مقبول بننے کی خواہش بیدار ہو جائے تو یہ ساری مشکل آسان ہو جائے۔ 

تبصرے

مقبول ترین تحریریں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !

درس قرآن نہ گر ہم نے بھلایا ہوتا

حب رسول