اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !







اب تو چہروں کے خدو خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے ؟

خواب گاہوں سے نکلتے ہوئے ڈرتے کیوں ہو ؟
دھوپ اتنى تو نہیں كہ پگھل جاؤ گے !

اپنے مركز سے اگر دور نكل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے ، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے !



اپنے پرچم کے کہیں رنگ بھُلا مت دینا
سُرخ شعلوں سے جو كھيلو گے تو جل جاؤ گے

دے رہے ہیں لوگ تو تمہیں رفاقت کا فريب
ان كى تاريخ پڑھو گے تو دہل جاؤ گے !!!

اپنی مٹی پہ ہی چلنے کا سلیقہ سیکھو !
سنگ ِ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے !

تيز قدموں سے چلو اور تصادم سے بچو
بھِیڑ میں سست چلو گے تو کچل جاؤ گے !

ہم سفر ڈھونڈو اور نہ رہبر کا سہارا چاہو
ٹھوکریں کھاؤ گے تو خود ہی سنبھل جاؤ گے !

تم ہو اک زندہ جاوید روایت کے چراغ !
تم کوئی شام كا سورج ہو کے ڈھل جاؤ گے ؟


احمد نديم قاسمى_

تبصرے

گمنام نے کہا…
Bohot Acha Hy.

مقبول ترین تحریریں

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں

کیا جزاک اللہ خیرا کے جواب میں وایاک کہنا بدعت ہے؟

استقبال رمضان کا روزہ رکھنے کی ممانعت

احسن القصص سے کیا مراد ہے؟ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

جھوٹے لوگوں کی ہر بات مصنوعی ہوتی ہے۔ سورۃ یوسف حاصل مطالعہ

مسجد کے بارے میں غلط خبر دینے پر برطانوی ذرائع ابلاغ کی بدترین سبکی

MUHAMMAD ( Sallallahu alaihi wa sallam)

تمہارے لیے حرام، میرے لیے حلال

حب رسول

قصيدة _ انتظار، من الشعر الأردي المعاصر